عالمی یوم آبادی اور مسائل
شاہدہ بٹ
پاکستان کا شمار بڑھتی ہوئی آبادی کا شکار ممالک میں ہوتا ہے،جولائی کی 11 تاریخ آبادی کے عالمی دن سے منسوب ہے۔ یہ دن 1989ء سے ہر سال عوام میں آبادی کے مسائل اور چیلنجوں کا شعور بیدار کرنے کی غرض سے منایا جاتا ہے۔دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آبادی کا عالمی دن منائے جانے کا مقصد آبادی اور وسائل میں توازن کی اہمیت کو اُجاگر کرنا اور اس کے ساتھ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے وسائل کی وجہ سے سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کیلئے لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرناہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ آبادی پر قابو پانے کیلئے نت نئے لائحہ عمل اختیار کیے جائیں بلکہ عوام میں یہ شعور پیدا کرناہے کہ دستیاب وسائل کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں اور اتنے کم وسائل میں دنیا کی آبادی اگر اسی تیز رفتاری سے بڑھتی چلی گئی تو آنے والی نسلوں کی زندگی اجیرن ہو سکتی ہے۔ اگر بنیادی سہولتیں جیسے پینے کا صاف پانی، تعلیم، ادویات، صحت، مناسب خوراک، رہائش ، ٹرانسپورٹیشن اور نکاسی آب کی موجودہ سہولیات20کروڑ آبادی کیلئے ناکافی ہیں تو آبادی دگنی ہونے پر کیا ہوگا۔
عالمی آبادی کا دن منانے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے تاکہ دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجوہات اور اس سلسلے میں عالمی برادری کی غلطیوں کا پتہ لگا کر ان کا ازالہ کیا جاسکے۔ اس کا مقصد عام لوگوں کو آبادی کے مسائل اور ان کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے ۔اس سلسلے میں دوران حمل ہونے والی پیچیدگیوں اور بیماریوں پر خاص توجہ دی جارہی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاتعدادخواتین کی اموات واقع ہوجاتی ہیں۔
عالمی آبادی کا دن منانے کے اہم مقاصد ذیل میں درج کئے جارہے ہیں
یہ د ن نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں ،دونوں کو تحفظ اور طاقت فراہم کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔
لوگوں کو صنف کے بارے میں دقیانوسی خیالات ختم کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔
انھیں حمل سے متعلق بیماریوں سے آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ وہ کم عمری میں بچے کی پیدائش سے پیدا ہونے والے خطرات کو جان سکیں ۔
بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے انھیں بیماریوں اور مختلف انفیکشنز کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔
چھوٹی لڑکیوں کو تحفظ دینے کے لئے مختلف قوانین اور پالیسیاں بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی کم از کم پرائمری تعلیم کو یقینی بنانا۔
ری پروڈکٹو ہیلتھ سروس کے اداروں کا قیام تاکہ لوگوں کو بنیادی طبی سہولیات حاصل ہو سکیں ۔
بادی میں اضافے کی شرح کو دیکھا جائے تو قیاس ہے کہ 2050ء تک پاکستان کی آبادی 35کروڑ سے تجاوز کرسکتی ہے اور اتنی بڑی آبادی کے لئے بنیادی سہولتوں، خاص طورپر صحت عامہ کی سہولیات اور اس تک رسائی کیلئے موجودہ اور مستقبل میں آنے والی حکومتوں کو لازمی سوچنا ہوگا۔ اس ضمن میں سب سے مثبت پہلو یہ ہےکہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان نوجوانوں کو صحت مندسرگرمیوں اور تعلیم کے حصول کی طرف راغب کیا جائےتو ملک کی ترقی میں ان کا کردار بہت اہم اور فائدہ مند ہوسکتاہے۔اسی طرح ملک کو اگر آبادی کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور آبادی دن بدن بڑھ رہی ہے تو اسی افرادی قوت سے کام لینا ہوگا تاکہ وہ معاشرے کے کارآمد اور مفید شہری بنیں۔
بچوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ذیلی شاخ یونیسف کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 15 ملین شادیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں دلہن کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہر 3 میں سے 1 لڑکی کی جبراً کم عمری میں شادی کر جاتی ہے۔کم عمری کی شادی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لڑکیاں چاہے جسمانی اور ذہنی طور پر تیار نہ ہوں تب بھی وہ حاملہ ہوجاتی ہیں۔ کم عمری کے باعث بعض اوقات طبی پیچیدگیاں بھی پیش آتی ہیں جن سے ان لڑکیوں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔
اس ضمن میں سول سوسائٹی اور میڈیا کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے جو حکومت کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانے کے ساتھ عوام کو مسائل کا حقیقی آئینہ دکھاتے ہوئے انہیں صورتحال سے آگاہ کرسکتا ہے ۔یاد رکھیں کہ آبادی میں کمی، نئی بستیوں کے قیام اور وسائل میں اضافہ کے بغیر تعمیر و ترقی کا ایجنڈا فروغ نہیں پاسکتا ۔تعمیری امور عمل میں نہ آنے سے ملک و قوم کا مستقبل مخدوش ہوسکتا ہے لہٰذا سوچئے، سمجھئے اور عمل کیجئے ہر اس بات پر جو آپ کے اور آپ کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی بہتری کی نوید دے۔







No comments:
Post a Comment