نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

صبح جیسی شام

 صبح جیسی شام 



حرف کار ایک متحرک اور منظم ادبی ،سماجی تنظیم ہے جو پروقار اور سنجیدہ تقاریب کے لیے ایک ٹریڈ مارک کی سی حیثیت اختیار کرچکی ہے کیونکہ علمی و ادبی خانوادے کے چشم و چراغ معروف شاعر, کالم نگار, سفر نامہ نگار برادرم سعود عثمانی اپنے رفقاء محترمہ ڈاکٹر عظمی سلیم, محترمہ ڈاکٹر عنبرین منیر,محترم نوید غازی صاحبان کے ساتھ اس تنظیم کے مدارالمہام ہیں۔

 حرف کار نے لاہور جم خانہ کے جیسمین ہال میں ایک نثری نشست کا اہتمام کیا، آبروئے حرف و لفظ محترم ڈاکٹر معین نظامی صاحب کی صدارت تقریب کی شان و شوکت واضح کرنے کے لیے کافی تھی،مہمان خصوصی محترمہ نعیم فاطمہ علوی صاحبہ جو کہ سماجی ورکر سفر نامہ نگار ہیں۔ خصوصی طور پر اسلام آباد سے تشریف لائیں۔ محترمہ سلمی اعوان جو کسی تعارف کی محتاج نہیںتقریب کی مہمان اعزاز تھیں۔ شرکاء میں ڈاکٹر غلام حسین ساجد، ڈاکٹر امجد طفیل،ڈاکٹر شعیب احمد، ڈاکٹر اشفاق احمد ورک،ڈاکٹر فاطمہ،وجاہت بیگ جیسے نابغے موجود تھے۔ اکثر تعلیمی اداروں کی رینکنگ اس بات سے بنتی ہے کہ وہاں کتنی سینئر فیکلٹی اور ڈاکٹرز موجود ہیں, حرف کار کی تقریب کا اندازہ لگائیں کہ وہاں صاحب صدارت سمیت دکتور حضرات کی کثرت تھی۔تقریب میں سب شرکاء نے جی بھرکے گپ شپ لگائی اور کرونا جیسی وحشت ناک وباء کے پیش نظر طویل عرصہ تنہائی اور دوستوں سے دوری کو ایک صبرآزماء مرحلہ قرار دیا۔










 حرف کار نے ترسی بصارتوں اور سماعتوں کو دوستوں کے سامنے کرکے گویا ندائے بہار لگادی ہے۔معروف کالم نگار سعدیہ قریشی نے آپا سلمی اعوان کے فن اور شخصیت کو عمدہ خراج تحسین پیش کیا۔ڈاکٹر عظمی سلیم نے محترمہ نعیم فاطمہ علوی کے بارے میں اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر عنبرین منیر نے ڈاکٹر معین نظامی کی شخصیت پر گفتگو کی اور خوب کی۔ جناب نوید غازی نے محفل کی نظامت کا حق ادا کیا۔ انہوں نے اپنے نثر پارے سے ایک اقتباس پیش کیا۔ ڈاکٹر اشفاق ورک اور ڈاکٹر صائمہ آفتاب اور صدر محفل ڈاکٹر معین نظامی نے شگفتہ اور شستہ تحریریں پیش کرکے محفل کو زعفران زار کردیا۔ ڈاکٹر امجد طفیل نے امریکی سامراجیت پر بڑا عمدہ طنز پیش کیا۔ ڈاکٹر غلام حسین ساجد نے ناسٹلجیک تحریر پیش کرکے سماں باندھ دیا۔ باقی تمام شرکاء کے نثر پارے بھی بہت سراہے گئے۔ حرف کار اور بھائی جان سعود عثمانی کا شکریہ کہ انہوں نے اتنے ڈاکٹرز اور اعلی پائے کے لکھاریوں میں میرے جیسے اتائی کو بھی شامل تقریب کیا جس سے مابدولت بھی خود کو کوالیفائیڈ سا سمجھنے لگ گئے ہیں۔





مرزا محمدیسین بیگ ادیب وکالم نویس ہیں اور پاکستان رائٹرز کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ وہ خبارات وجرائد میں مختلف موضوعات فیچرز کےساتھ کالم نویسی کے میدان میں بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں اور ادبی حلقوں میںخاصے مقبول اور متحرک ہیں۔


 


Share:

No comments:

Post a Comment

Recent Posts