نوائے درویش ایسی ویب سائیٹ ہے جو آپ کومنفرد خبروں،سپورٹس،شوبز ، سیاست،مضامین،کالمز ،انٹرویوز اور نوائے درویش کے مضامین سے باخبر رکھے گی۔ اس کے علاوہ کچھ منفرد تصاویر جوآپ کی توجہ اپنی طرف لے جائیںگی۔ اس لئے باخبر رہنے کے لئے لاگ آن کریں نوائے درویش

مثبت گفتگو سے تربیت میں حیرت انگیز تبدیلی


مثبت گفتگو سے تربیت میں حیرت انگیز تبدیلی


تحریر : شمائلہ تنویر


ایک روز ایک طالب علم کو استاد کی جانب سے کاغذ پر تحریر دی گئی اور یہ کاغذ گھر جاکر اپنی والدہ کو دینے کو کہاگیا۔بچہ گھر پہنچا اوروہ خط اپنی والدہ کو دیااور سوالیہ نگاہوں سے ان کو دیکھنے لگا۔خط پڑھ کر والدہ کی آنکھیں نم ہوگئیں اور کہنے لگیں : استادصاحب کہتے ہیں کہ ”آپ کا بیٹا ذہین ہے ،یہ سکول اس کے لیے مناسب نہیں ہے اور کوئی اتنا قابل استاد نہیں جو اسے پڑھاسکے۔لہٰذا مہربانی فرماکر آپ اسے خود پڑھائیے۔“
یہ بچہ محض تین مہینے کے لیے سکول گیا او ر یہ تین ماہ اس کی زندگی بدل دینے کے لیے کافی تھے۔اس عرصے میں اس نے جانا کہ اس کی دلچسپی ریاضی اور فزکس کے مضمون میں ہے۔کئی سالوں بعد جب اس کی والدہ وفات پاچکی تھی اور یہ اس صدی کا سب سے بڑا موجد کہلایا جانے لگا تھا ، اسے اپنے گھر کی الماری سے وہ خط ملا جو اس کے استاد نے اس کی والدہ کو لکھا تھا۔اس نے خط کھولا جس میں لکھاتھا:
”سکول آپ کے بیٹے کو مزید کلاسز لینے کی اجازت نہیں دے سکتا ،یہ ذہنی طور پر کمزور ہے اور اسے سکول سے نکال دیا گیا ہے۔“
یہ واقعہ اس بچے کا ہے جسے آج دنیا تھامس ایڈیسن کے نام سے جانتی ہے۔یہی وہ ذہین انسان ہے جس کی بلب کی ایجاد سے آج ہم مستفید ہورہے ہیں۔تھامس ایڈیسن نے یہ خط پڑھنے کے بعد لکھا کہ
”تھامس ایڈیسن ایک ذہنی طورپر کمزور بچہ تھا ،جسے اس کی والدہ نے اس صدی کا ذہین ترین انسان بنادیا۔“
آج ہمارے معاشرے میں بھی بچوںکی بہترین تربیت کے لیے تھامس ایڈیسن کی والدہ کی طرح مثبت سوچ ، رویے اور گفتگو کی ضرورت ہے۔مثبت گفتگو بچوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔بعض اوقات والدین دورانِ گفتگو ایسے جملے استعمال کرتے ہیں جس نے نہ صرف بچے کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے بلکہ ان کی خود اعتمادی میں بھی کمی آتی ہے۔مثبت گفتگو کامیابی کا سبب بنتی ہے۔بچوں سے استعمال کیے جانے والے جملے بآسانی ان کی جیت اور ہار کا تعین کرتے ہیں۔جبکہ منفی گفتگو ناکامی کے اندھیروں میں دکھیل دینے کا باعث بنتی ہے۔ والدین کی جانب سے بولے جانے والے جملے انہیں موٹیویٹ کرنے اور ان کی اصلاح کرنے میں مدد دیتے ہیں۔بچوں سے گفتگوکے دوران حوصلہ افزائی والے جملے استعمال کیجیے نہ کہ ایسے جس سے ان کی حوصلہ شکنی ہو۔مثلاً بچے کے امتحان میں نمبرکم آنے کی صورت میں اسے یہ کہنے کی بجائے کہ
” تم ایک نالائق طالب علم ہو محنت نہیں کرتے ،ہروقت کھیل میں مصروف رہتے ہو،“
اگر یہ کہاجائے کہ ”تم مزید محنت کرو اور کھیل کود کے ساتھ پڑھائی کو بھی توجہ دو تو تم امتحان میں اچھے نمبر لینے کی صلاحیت رکھتے ہو“ تو
 یہ بچے کے مزاج 
پرخوش گوار اثرات مرتب کریں گے۔
مثبت گفتگو کے فوائد:
٭ سیلف ڈسکوری اور سیلف گروتھ کا سفر بچپن ہی سے شروع ہوجاتاہے۔ایسے میں مثبت انداز میں کی جانے والی گفتگو بچوں کو اپنی ذات اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔

٭ مثبت الفاظ استعمال کرنے سے ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پید اہوتا ہے جو کہ ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتاہے۔
٭ مثبت گفتگو ان میں مشکل حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے اور وہ ہار نہیں مانتے۔
٭ مثبت پہلوﺅں کو مثبت گفتگو کے ذریعے بڑھایا جاسکتا ہے۔مثلا ً بچوں کو یہ بتانے سے کہ وہ نرم دل ، بہادر اور سچے انسان ہیں ، ان کی شخصیت کے ان مثبت پہلوو ¿ں میں پختگی آئے گی۔
٭ مثبت گفتگو صرف اپنی بات کہہ دینے کا نام ہی نہیں بلکہ مثبت گفتگو کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کی بات کو توجہ سے سنا جائے اور اپنی رائے کا اظہار کیا جائے۔ا س سے انہیں اپنی اہمیت کا اندازہ ہوگا اور والدین کا بچوں سے رشتہ مضبوط ہوگا۔
لہٰذا اپنی گفتگو میں مثبت جملے استعمال کیجئے اور بے جا تنقید سے گریز کیجئے تاکہ آپ کا بچہ کامیابی کی بلندیوں تک پہنچ سکے۔

نوٹ: یہ کالم نگار، بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


Share:

1 comment:

  1. Absolutely true. The role of mother is always a key to successful personal

    ReplyDelete

Recent Posts