اقبال راہی کے لئے پھول
” رفتارادب “........طارق کامران
سینئر شاعر جناب اقبال راہی ان دنوں صاحب فراش ہیں،اور اپنی ناسازی طبع کی بنا پر ادبی حلقوں سے دور ہیں، اور ان تقریبات میں دکھائی نہیں دے رہے،جن کی وہ جان محفل سمجھے جاتے ہیں۔سوشل میڈیاپر ایک پوسٹ سے پتہ چلا ہے کہ انہیں سانس کی نالی میں شدید تکلیف ہیں، اس صورت حال کی وجہ سے وہ اپنے گھر تک ہی محدود ہوکر رہ گئے ہیں، سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر احباب انکی خرابی صحت پر اظہار تشویش کرتے ہوئے جلد صحت یابی کی دعا کررہے ہیں،جبکہ اقبال صاحب مزاج پرسی کرنے پر دوستوں کےلئے اظہار تشکر کررہے ہیں۔
راہی صاحب کا شمار ہمارے دور کے استاد شاعروں میں ہوتا ہے، ان سے اصلاح سخن لینے والوں کی تعداد سینکڑوں میں تو یقینا ہے،جبکہ وہ خود اتنے ملنسار اور شفیق ہیں کہ جو بھی ادبی تنظیم انہیں مدعو کرتی ہے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان کے فنکشن میں ضرور جائیں،لیکن اس کا کیا جائے کہ اب شاید زندگی اس قدر مصروف ہوگئی ہے کہ ہم میں سے اکثر اپنے دوستوں کی عیادت کےلئے انکے گھرجانے کا وقت نہیں نکال پاتے ،اس لئے اب ہمارے رابطے فیس بک تک ہی محدود ہوکررہ گئے ہیں،جبکہ بھلے وقتوں میں لوگ باگ اپنے بیمار دوستوں کی خیر خیریت دریافت کرنے کےلئے ان کے ہاں جایا کرتے تھے، اپنے ہمراہ پھولوں کے گلدستے لے جایا کرتے تھے، وہاں پر ان سے کچھ دیر گپ شپ کرتے، اپنے تازہ شعر ان کی نذر کرتے، ان کے کلام تازہ پر واہ واہ کیا کرتے، اس طرح ایک محفل سخن برپا ہوجایا کرتی۔ ہمارے علیل دوست کا دل باغ باغ ہوجاتا اور وہ اپنی بیماری بھول جایا کرتاتھا، مگر اب آج کے تقاضوں نے ہمیں الجھا کررکھ دیا ہے اور ہمارے پاس یہ سب کرنے کا وقت کم ہی رہ گیا ہے اگرچہ کچھ باہمت لوگ اب بھی ایسا اہتمام کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ہمیں ان کی تحسین کرنی چاہیے، اور خود بھی اپنے اندر ایسا کرنے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے۔آج اگر ہم یہ کام کر پائیں توکل کوئی ہمارا حال پوچھنے بھی آجائے گا، آخر کو کبھی ہم بھی تو بیمار پڑ سکتے ہیں، وقت ہمیں نظرانداز کرکے گھر تک محدود کرسکتا ہے،اور اس وقت ہمیں دوستوں کی یاد بھی ستاسکتی ہے، کچھ سال قبل جناب حسین مجروح نے احباب کے ساتھ مل کر بیمار اور معمر اہل قلم کے ہاں جانے کا جانے کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا، اخبارات کے ادبی ایڈیشنز میں اس کے چرچے بھی بہت ہوئے تھے، پتہ نہیں انکا یہ کار خیر اب بھی جاری ہے یا نہیں، چلیں کوئی بات نہیں اگر کسی وجہ سے و ہ اسے جاری نہیں رکھ سکے تو اب ہم میں سے کسی اور دوست کوخیر سگالی کی اس مہم کی قیادت سنبھال کر آغاز نو کردینا چاہیے۔
یہ سطور تحریر کرتے ہوئے مجھے حامد علی نقوی یاد آرہے ہیں ، نقوی صاحب نے بچوںکےلئے بہت عمدہ شاعری کی ہے، اس حوالے سے ان کے کئے شعری مجموعے بھی شائع ہوئے تھے، تاہم میرے نردیک انکا سب سے اہم کام روزنامہ مشرق کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہونے والا ان کا کالم ’کون ،کس حال میں ہے “ ۔ مذکورہ کالم میں حامد صاحب ملک بھر میں بسے والے ان اہل قلم کا حال احوال قارئین کو بتاتے تھے جو کسی وجہ سے پس منظر میں چلے گئے اور بہت سوں کو ان کا نام بھی یاد نہیں رہا، مذکورہ کالم کی وجہ سے متعدد شاعروں ،ادیبوں کی مالی اعانت کی راہ بھی ہموار ہوئی ، کام تو جو بھی نیک نیتی سے کیا جائے اس کا مثبت نتیجہ نکلتا ہے۔
ہاں تو میں عرض کررہا تھا کہ اپنے بیمار اور خود کو بوجہ دنیا کے ہنگاموں سے الگ تھلگ کردینے والے سجنوں، دوستوں اور بزرگوں کے ہاں جانے کے کار خیر کا آغاز تو کوئی بھی کسی بھی وقت کرسکتا ہے۔ ہاںتو پھر کون کون جارہا ہے جناب اقبال راہی کےلئے پھولوں کے تحائف لیکر
نوٹ:
یہ کالم نگار،بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس کیلئے ہمارا متفق ہونا ضروری نہیں ہے







No comments:
Post a Comment