جان شیر نے پلیئرز کو ٹریننگ کیلئے مصر بھجوانے پر سوال اٹھادیئے
جان شیر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سکواش مسلسل تنزلی کی جانب گامزن ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جونیئر پلیئرز کو ٹریننگ کے نام پر مصر کیوں بھجوایا گیا؟ درحقیقت یہ سارا ٹور نہ صرف وقت اور قومی خزانے کا ضیاع تھا ملک میرے سمیت قمر زمان اور جہانگیر خان جیسے بڑے کھلاڑے موجود ہیں تو پھر پلیئرز کو ٹریننگ کے نام پر باہر ملکوں میں بھیجنے کی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔ بیرون ممالک بشمول مصر کے کوچز ہماری گیمز کی وڈیو دیکھ کر اپنے کھلاڑیوں کی ٹریننگ کرتے ہیں اور ان کو ہماری ٹیکنیکس سکھاتے ہیں۔
جان شیر خان نے کہا کہ آج کے کھلاڑی ا ±س طرح کی محنت نہیں کرنا چاہتے وہ صرف پیسے، بیرون ممالک کے ٹورز اور نئے ماڈل کے موبائل فونز کے لیے کھیلتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ موجودہ پلیئرز میں ایک بھی ایسا پلیئر موجود ہے جو کہ انٹر نیشنل لیولز پر فارمنس دے سکے اور جس پر میں یا پاکستان سکواش فیڈرشن بھروسہ کر سکے۔ پاکستان سکواش فیڈریشن سے غیر پیشہ ور کوچز اور ٹرینرز کو نکال کر ا ±نکی جگہ پیشہ ور اور ٹریننڈ کوچز کی خدمات حاصل کی جائیں۔







No comments:
Post a Comment